Take a historical look at the national media in Pakistan

Media in Pakistan

Today we are living in the age of news. With the advent of modern technology and social media, it has become impossible to ignore the growing importance of news in all walks of life. The world has now become a global village and all government officials, politicians, farmers, businessmen, industrialists, stock market workers, members of the education sector, News is the lifeblood of teachers and the general public. News is directly linked to the rapid development of the media around the world. The media is very important. During Musharraf’s rule, under the guise of sexual harassment, TV channels and FM radio offices were attacked. Showcase notices were issued to them and their equipment was confiscated. Was harassed until the dictatorial government stopped broadcasting on various occasions The Pakistan People’s Party believes in freedom of the press and we consider it important for the country’s integrity and survival. We are not afraid of fair criticism which ensures that the government is on the right track for the development of the country and the welfare of the people. We consider the media to be the guardian of the interests of the society which works for the welfare of the society. Following in the footsteps of its martyred leaders, the government has eliminated dangerous media laws and ensured free access to information to the public through amendments to the law and implementation of existing laws in law books. No journalist, poet, or writer has been jailed for opposing the government, and no restrictions have been imposed on TV channels and newspapers.

Take a historical look at the national media in Pakistan Today, print, electronic and social media are playing a role in raising public awareness. Historically, print media is the oldest source, followed by electronic and social media. At present, the proportion of electronic media access to the public is higher than that of print and social media. Whenever the public needs to know the latest news, they turn on the TV and listen and watch the news. As well as news on TV, there are also informational and analytical programs on political, economic, religious, and social issues. In which the participants take part in the discussion and also give their opinion.

Take a historical look at the national media in Pakistan The first priority of the present government is to solve the problems of the working journalists because unless their problems are solved they will not be able to cover the problems of the common people properly. The government wants journalists to express their views and opinions freely and with full confidence. The government strives to improve the condition of those connected with the media and hopes that the journalist community will play its role responsibly on important national and security issues. Finally, it is safe to say that the Ministry of Information and Broadcasting has devised new methods to meet the rapidly changing trends in print and electronic media. The establishment of the Ministry of Information and Broadcasting is constantly increasing its capacity for better performance as per the requirements of the present day. The Ministry of Information and Broadcasting will continue its efforts to improve the positive image of Pakistan.

پاکستان میں قومی ذرائع ابلاغ کا تاریخی جائزہ لیں 

 

پاکستان میں ذرائع ابلاغ 

آجکل ہم خبروں کے دور میں رہ رہے ہیں۔جدید تکنیک اور سماجی ذرائع ابلاغ کے ساتھ زندگی کے ہر شعبے میں خبروں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔یہی وجہ ہے کہ ہر شخص اپنے کام کی استعداد کو بڑھانے کیلئے معلومات کے قابل اعتماد اور آسان نیز فوری ذریعے پر انحصار کرتا ہے۔اب دنیا ایک گلوبل ویلج کی حیثیت اختیار کرچکی ہے اور تمام سرکاری حکام ، سیاستدانوں، کسانوں، تاجروں، صنعتکاروں، سٹاک مارکیٹ میں کام کرنےوالوں،تعلیمی شعبہ سے تعلق رکھنے والے ارکان، اساتذہ اور عام شہری کیلئے خبریں روح رواں کی حیثیت رکھتی ہیں۔خبریں براہ راست دنیا بھر میں ذرائع ابلاغ کی انتہائی ترقی سے وابستہ ہیں اگرچہ آجکل ذرائع ابلاغ ماضی کے مقابلے میں ایک مختلف شکل اختیار کرچکے ہیں تاہم جمہوری معاشروں کی نشوونما کیلئے آزاد اور ذمہ دار ذرائع ابلاغ انتہائی ضروری ہیں ۔مشرف کے دور حکومت میں ایمر جنسی کی آڑ میں ٹی وی چینلز اور ایف ایم ریڈیو کے دفاتر پر یلغار کی گئی۔ان کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ان کے سازو سامان کو قبضے میں لے لیا گیا۔عملہ کو ہراساں کیا گیا یہاں تک کہ آمر حکومت نے مختلف مواقعوں پر نشریات کو بند کرایا یا خلل ڈلوایا جس کی وجہ سے اور خصوصاً دو ترامیم کے ذریعے میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا کو دباﺅ میں رکھنے کی کوشش کی گئی۔پاکستان پیپلز پارٹی آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے اور ہم اسے ملکی سالمیت اور ملکی بقاءکیلئے اہم تصور کرتے ہیں۔ہم پریس کی منصفانہ تنقید سے خوف زدہ نہیں ہیں جو کہ اس امرکو یقینی بناتی ہے کہ ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے حکومت صحیح راستے پر گامزن رہے۔ ہم ذرائع ابلاغ کو معاشرے کے مفادات کا نگران تصور کرتے ہیں جو کہ معاشرے کی فلاح کیلئے کام کرتا ہے۔ اپنے شہید رہنماﺅں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حکومت نے ذرائع ابلاغ سے متعلق خطرناک قوانین کو ختم کردیا ہے اور قوانین میں ترامیم کے ذریعے اور قانونی کتب میں پہلے سے موجود قوانین پر عمل درآمد کرتے ہوئے عوام تک اطلاعات کی آزادانہ رسائی کویقینی بنایا ہے۔کسی صحافی، شاعر اور ادیب کو حکومت کی مخالفت کرنے پر جیل نہیں بھیجا گیا اور نہ ہی ٹی وی چینلز اور اخبارات پر کسی قسم کی پابندیاں عائد کی گئیں۔

عصر حاضر میں پرنٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا عوام میں آگاہی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ تاریخ کے حوالے سے پرنٹ میڈیا سب سے قدیم ذریعہ ہے پھر بالترتیب الیکٹرونک اورسوشل میڈیا آتے ہیں۔ فی زمانہ عوام میں الیکٹرونک میڈیا کی رسائی کا تناسب پرنٹ اور سوشل میڈیا کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ عوام کو جب بھی تازہ ترین خبر جاننا ہوتی ہے تو ٹی وی آن کرکے خبریں سن اور دیکھ لیتے ہیں۔ ٹی وی پر خبروں کے ساتھ ساتھ سیاسی، معاشی، مذہبی اور سماجی حالات کے حوالے سے معلوماتی و تجزیاتی پروگرام بھی نشر ہوتے ہیں۔ جس میں شرکائے گفتگو بحث میں حصّہ لیتے ہیں اور اپنی رائے سے بھی آگاہ کرتے ہیں۔  

موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ عامل صحافیوں کے مسائل کو حل کرے کیونکہ جب تک ان کے مسائل کو حل نہیں کیاجائے گا وہ عام لوگوں کے مسائل کو مناسب طریقے اجاگر کرنے میں کامیاب نہیں ہونگے۔ حکومت کی یہ خواہش ہے کہ صحافی حضرات آزادانہ اور مکمل اعتماد کے ساتھ اپنے خیالات اور آراءکا اظہار کریں۔ حکومت ذرائع ابلاغ سے منسلک افراد کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے کوشاں ہے اور امید کرتی ہے کہ صحافی برادری اہم قومی اور حفاظتی امور سے متعلق ذمہ دارانہ طریقے سے اپنا کردارادا کرےگی۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وزارت اطلاعات و نشریات نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں تیزی سے تغیر پذیر رجحانات کے مطابق نئے طریقے وضع کرلیے ہیں۔حال ہی میں سوشل میڈیا سیل، سائبرونگ اور الیکٹرانک اینڈ میڈیا ریگولیٹری ونگ( ای ایم آرونگ) کا قیام چند قابل ذکر مثالیں ہیں مزید برآں وزارت اطلاعات و نشریات عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق بہتر کارکردگی کیلئے اپنی استعداد میں متواتر اضافہ کر رہی ہے۔اس ضرورت کے پیش نظر افسروں کی تربیت کے علاوہ انسانی وسائل کے فروغ کیلئے زیادہ سے زیادہ اقدامات کر رہی ہے۔وزارت اطلاعات و نشریات کی پاکستان کے مثبت امیج کو بہتر بنانے کیلئے مسلسل کوششیں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔

Leave a Reply