Write notes on following E-Mail Uses of email Neutral Messages
Write notes on following E-Mail Uses of email Neutral Messages

جنگ آزادی کے واقعات قلمبند کریں ؟

مسلمانوں کے انگریزوں کے خلاف پہلی آزادی کے مسلح جنگجو نے اس جنگ بدر کا نام دیا اس کے دوستوں بیان کیا جاتا ہے اور لائک کر لی تھی یہ کہ ان دنوں جو فوجیوں کو دیے جاتے تھے وہ عام خیال کے مطابق سور اور گائے کی چربی سے آلودہ تھے انہیں قید میں ڈالنے سے بہتر دانتوں سے کاٹنا پڑتا تھا ہندو اور مسلمان فوجی سپاہیوں نے اسے مذہب کے منافی سمجھا اور ان میں کھلبلی مچ گئی جن سپاہیوں نے ان کو استعمال کرنے سے انکار کر دیا ان کی فوجی وردی اتار کر انہیں بیڑیاں پہنا دی گئیںجنگ آزادی ہند کا آغاز 1997 میں بنگال میں دم دم اور بھارت پور کے مقامات پر ہوا جہاں دیسی سپاہیوں نے ان کا دوسروں کے استعمال سے انکار کر دیا جن میں ان کے خیال کے مطابق سور اور گائے کی چربی ہوئی تھی حکومت نے ان کو ملازمت سے برخاست کر دیا لکھنؤ میں بھی یہی واقعہ پیش آیا جس ملک میں پھیل گئے اور فوجی انگریزوں کے خلاف ابھرنے لگے تو میں آپ کو میرٹھ میں ایک منٹ کے سپاہیوں کو دس سال قید بامشقت کی سزا دی گئی جس طریقے سے یہ حکم سنایا گیا وہ بھی تہذیب سے گھرا ہوا تھا انگریز افسروں کو ہلاک کرکے ان کے قیدیوں کو آزاد کرا لیا اور غیر سے دلی کی طرف بڑھنے لگے ملک کے سپاہیوں کی دلی میں آمد سے دلی کی فوجیں بھی کرلے اور تاجدار بہادر شاہ ظفر کی تخت نشینی کا اعلان کر دیا گیا اس اعلان کے بعد بغاوت کی آگ دور دور تک پھیل گئی جنرل نکلسن نے انگریزی فوجوں کی مدد سے تقریبا چار مہینے تک دلی کا محاصرہ کیے رکھا 14ستمبر کو کشمیر دروازہ توڑ دیا گیا جنرل نکلسن اسرائیل میں مارا گیا مگر انگریزوں سے فوجوں نے دہلی پر قبضہ کر کے دو بیٹوں اور ایک پوتے کو گولی سے اڑا دیا گیا انگریزوں کا قبضہ ہوجانے سے ہر جگہ جگہ پر دوبارہ قبضہ ہوگیا دلیل گلوکارہ اس کے علاوہ اس میں شامل ہوگئے جن کو انگریز حکومت سے نقصان پہنچا تھا جنگ آزادی کا نعرہ انگریزوں کو ہندوستان سے نکال دو تھا اس لیے اس میں تمام ایسے عناصر شامل ہوکر جن کو انگریز حکومت سے نقصان پہنچا تھا متضاد عناصر لیکن وطنیت و قومیت کے تصورات سے آشنا تھے بہادر شاہ ظفر جس کی بادشاہت کا علاج بغیر سپاہیوں نے کر دیا تھا بادشاہت کی صلاحیت رکھتے تھے اور نہ باغیوں کی مخالفت کرنے کی طاقت مزید برآں باغیوں نے دلی میں لوٹ مار اور کارتک قریب جا کر لوگوں کی ہمدردیاں کھودی تھی سو ستاون کی جنگ آزادی ناکام نہیں علامہ فضل حق خیرآبادی اور ان کے ساتھی مفتی صدر الدین خان سید کفایت علی کافی اور دیگر بہت سے مسلمان علماء نے دہلی کی جامع مسجد سے بے وقت انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتوی جاری کیا جس کے نتیجے میں مسلمان جن کو اپنادلی کی فتح کے بعد انگریز فوجیوں نے شہری آبادی سے خوفناک انتقام لیا  

لوگوں کو بے دریغ قتل کیا گیا سینکڑوں کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا ہزاروں نفوس کو گولیوں سے اڑا دیے گئے ان میں مجرم تھے اور بے گناہ بھی مسلمان بھی تلوار کے گھاٹ اتار دیے گئے اور ہندو بھی لیکن جلد ہی انگریز فوج کے سکھ سپاہیوں نے قتل و غارت میں فرقہ وارانہ رنگ بھر دیا ہے چن چن کر قتل کیے گئے بہت سے مسلمانوں کی جائیداد تباہ ہو گئی اور وہ کوڑی کوڑی کو محتاج ہو گئے انہوں نے لاکھ مظالم کا ارادہ کیا گیا جہاں اولاد تھی اور اٹھاون میں نے اعلان کر کے ذریعے ایسٹ انڈیا کمپنی کا خاتمہ کرکے ہندوستان کو تاج برطانیہ کے سپرد کردیا اس جنگ کے بعد خصوصا مسلمانان زیر عتاب آئے جب کہ ہم دونوں مکمل طور پر انگریزی مفاہمت کر لیں یہ مسلمانوں پر جدید علم اور خود مسلمان بھی نئی دنیا سے دور ہوتے چلے گئے ایسا ہی ہے جیسے لوگ سامنے آئے جنہوں نے اس جنگ آزادی اور    انگریزوں پر زور دیا کہ ہندوستانیوں میں موجود احساس محرومی کو دور کرکے انگریزی حکومت کر سکتا ہے انقلاب لانے کے لئے کالج اور یونیورسٹیاں قائم کی اس جنگ آزادی میں ہندو مسلمان مل کر ہندوستان کے لیے لیکن اس کے بعد انگریز کی سازش اور کچھ نہیں کیا رویہ کی وجہ سے مسلمان اور ہندو دو الگ الگ کی صورت میں بٹ گئے 

Leave a Reply