• عنوان :*ماہِ ذوالحج کی اہمیت: ایک تحقیقی، اسلامی اور صحافتی جائزہ*
  • تحریر: *ماریہ طفیل*
  •  Email: mariatufail88@gmail.com

“وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ” (سورۃ الفجر: ۱-۲)

یہ وہ دس راتیں ہیں جن کی اللہ نے خود قسم کھائی ہے۔ مفسرین کے نزدیک ان سے مراد ذوالحج کے ابتدائی دس دن ہیں، جن کی فضیلت پورے سال کے دنوں پر فوقیت رکھتی ہے۔

اسلامی سال کا آخری مہینہ ذوالحج اپنی مذہبی، روحانی اور سماجی اہمیت کے باعث پوری دنیا کے مسلمانوں میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔ اس مقدس مہینے میں حج جیسی عظیم عبادت ادا کی جاتی ہے، جبکہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی لازوال قربانی کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ ذوالحج انسان کو صبر، اطاعت، ایثار اور اللہ کی رضا کے لیے ہر چیز قربان کرنے کا درس دیتا ہے۔ دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان کعبہ میں جمع ہو کر حج ادا کرتے ہیں اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کی خوبصورت مثال پیش کرتے ہیں۔ یہ مہینہ صرف عبادات تک محدود نہیں، بلکہ انسانیت، ہمدردی، سماجی مساوات اور قربانی کا عملی پیغام بھی دیتا ہے۔ آج کے مادہ پرست دور میں، جب خود غرضی بڑھ رہی ہے، ذوالحج انسان کو دوسروں کے لیے جینے اور اللہ کے احکامات پر عمل کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں ذوالحج کے بے شمار فضائل بیان ہوئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان دس دنوں میں کیے گئے نیک اعمال اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ اسی مہینے میں حج ادا کیا جاتا ہے جو اسلام کا پانچواں رکن ہے۔ حج دراصل تمام عبادات کا حسین امتزاج ہے۔ اس میں توحید کا اقرار، نماز کی پابندی، روزے جیسی صبر و برداشت، زکوٰۃ کی روح، قربانی کا جذبہ اور جہاد جیسی مشقت و ثابت قدمی شامل ہوتی ہے۔ میدانِ عرفات حج کا سب سے اہم رکن سمجھا جاتا ہے، جہاں لاکھوں مسلمان ایک ساتھ اللہ کے حضور دعا اور توبہ کرتے ہیں۔ حج انسان کو مساوات، اتحاد اور عاجزی کا سبق دیتا ہے، کیونکہ امیر و غریب، بادشاہ و فقیر سب ایک ہی لباس میں اللہ کے حضور حاضر ہوتے ہیں۔

مناسکِ حج اسلامی عبادات کا نہایت اہم حصہ ہیں۔ حاجی سب سے پہلے احرام باندھ کر اللہ کے حضور حاضری دیتے ہیں، پھر کعبہ کا طواف کرتے ہیں اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے ہیں۔ آٹھ ذوالحج کو منیٰ روانگی، نو ذوالحج کو میدانِ عرفات میں وقوف، مزدلفہ میں قیام، شیطان کو کنکریاں مارنا، قربانی کرنا اور آخر میں طوافِ زیارت ادا کرنا حج کے اہم ارکان ہیں۔ یہ تمام مناسک حضرت ابراہیمؑ، حضرت ہاجرہؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی قربانی اور اطاعت کی یاد تازہ کرتے ہیں۔

نو ذوالحج، یعنی یومِ عرفہ، کو اسلامی تعلیمات میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس دن حاجی میدانِ عرفات میں جمع ہو کر اللہ کے حضور دعا، استغفار اور عبادت کرتے ہیں۔ حدیثِ مبارکہ کے مطابق “الحج عرفہ” یعنی حج عرفات میں وقوف کا نام ہے۔ جو مسلمان حج پر نہ ہوں، ان کے لیے بھی اس دن کے روزے کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یومِ عرفہ کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ یہ دن اللہ کی رحمت، بخشش اور بندوں سے قرب کا عظیم دن سمجھا جاتا ہے۔

عیدالاضحیٰ کو “بڑی عید” اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں محض خوشی نہیں، بلکہ اللہ کی رضا کے لیے قربانی دینے کا عظیم پیغام پوشیدہ ہے۔ یہ قربانی حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی اطاعت و صبر کی یادگار ہے۔ جب حضرت ابراہیمؑ نے خواب میں اپنے بیٹے کی قربانی کا حکم دیکھا، تو دونوں نے اللہ کے حکم کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیا۔ اللہ نے ان کی قربانی قبول فرمائی اور جنت سے ایک دنبہ عطا فرمایا۔ ذوالحج میں مقامِ ابراہیم کی فضیلت بھی مسلّم ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حضرت ابراہیمؑ نے کعبہ کی تعمیر فرمائی۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: “وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى” (سورۃ البقرہ: ۱۲۵)۔

قربانی کا مطلب صرف جانور ذبح کرنا نہیں، بلکہ اپنی خواہشات، غرور اور برے اعمال کو ترک کرنا بھی ہے۔ روزمرہ زندگی میں قربانی کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ایک طالب علم کا نیند قربان کر کے علم حاصل کرنا، والدین کا اولاد کے بہتر مستقبل کے لیے مشکلات برداشت کرنا، استاد کا قوم کی تعلیم کے لیے محنت کرنا، ڈاکٹر کا مریضوں کی خدمت کرنا اور فوجی کا وطن کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالنا قربانی کی عملی صورتیں ہیں۔ اسی طرح غریبوں کی مدد کرنا، اپنا آرام چھوڑ کر دوسروں کے لیے وقت نکالنا اور ذاتی مفاد پر اجتماعی بھلائی کو ترجیح دینا بھی قربانی کی اعلیٰ مثالیں ہیں۔ ذوالحج ایک معاشرے کو صبر، اطاعتِ الٰہی، ایثار، اتحاد، محبت اور خدمتِ خلق کا سبق دیتا ہے۔ اگر کوئی قوم قربانی کے جذبے کو اپنا لے تو وہ امن، بھائی چارے اور ترقی کا گہوارہ بن سکتی ہے۔

نوجوان نسل کے لیے ذوالحج کا پیغام یہ ہے کہ کامیابی صرف دولت یا شہرت میں نہیں، بلکہ کردار، محنت، قربانی اور اللہ کی اطاعت میں ہے۔ صحافتی اور سماجی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو آج دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت قربانی کی اصل روح کو سمجھنے کی ہے، کیونکہ معاشروں کی ترقی صرف ٹیکنالوجی سے نہیں، بلکہ انصاف، ایثار اور انسانیت کی خدمت سے ممکن ہے۔ ذوالحج ہمیں سکھاتا ہے کہ ایک مضبوط قوم وہی ہوتی ہے جو اپنے ذاتی مفادات سے بڑھ کر اجتماعی بھلائی کو ترجیح دے۔ یہی اس مقدس مہینے کا اصل پیغام اور انسانیت کے لیے سب سے بڑا سبق ہے۔

Leave a Reply